فرقہ واریت

فرقہ واریت سے مراد کسی مخصوص گروہ، فرقے یا نظریے کے ساتھ ایسی اندھی وابستگی ہے جس میں دوسرے گروہوں کو غلط، گمراہ یا حقیر سمجھا جائے۔ اسلامی تاریخ اور موجودہ دور کے تناظر میں، یہ ایک ایسا حساس موضوع ہے جس نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔


فرقہ واریت کے اسباب

فرقہ واریت یکدم پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں:

  1. فروعی اختلافات کو بنیاد بنانا: دین کے بنیادی ارکان (توحید، رسالت، قرآن) پر سب کا اتفاق ہے، لیکن ثانوی یا فروعی مسائل (جیسے نماز کے طریقے میں معمولی فرق) کو دشمنی کی بنیاد بنا لیا جاتا ہے۔
  2. سیاسی مفادات: تاریخ میں کئی بار حکمرانوں اور گروہوں نے اپنے سیاسی اقتدار کو طول دینے کے لیے مذہبی جذبات کا سہارا لیا اور لوگوں کو فرقوں میں تقسیم کیا۔
  3. جہالت اور لکیر کی فقیری: قرآن و سنت کا خود مطالعہ کرنے کے بجائے صرف سنی سنائی باتوں اور اپنے آباؤ اجداد کے مسلک پر بلا سوچی سمجھی تقلید کرنا۔
  4. برداشت کی کمی: دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے اور اسے سمجھنے کے بجائے اسے فتووں کے ذریعے اسلام سے خارج کرنے کی روش۔

فرقہ واریت کے نقصانات

  • امت کا انتشار: مسلمان ایک جسدِ واحد (ایک جسم) کی طرح تھے، لیکن فرقہ واریت نے انہیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا، جس سے ان کی اجتماعی طاقت ختم ہو گئی۔
  • خانہ جنگی اور بدامنی: فرقہ وارانہ نفرت اکثر تشدد، خود کش حملوں اور بے گناہ انسانوں کے قتل کا سبب بنتی ہے۔
  • دشمنوں کے لیے آسانی: جب مسلمان آپس میں لڑتے ہیں تو بیرونی قوتوں کے لیے ان پر غلبہ پانا اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد کی اہمیت

اسلام تفرقہ بازی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔” (آل عمران: 103)

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر واضح فرمایا تھا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اسلام میں اصل بنیاد “تقویٰ” ہے، نہ کہ کسی مخصوص فرقے سے وابستگی۔


حل کی راہ (تدارک)

فرقہ واریت کے زہر کو ختم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  • اصولِ برداشت (Tolerance): یہ سمجھنا کہ اختلافِ رائے ایک علمی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن یہ نفرت کی بنیاد نہیں ہونی چاہیے۔
  • مشترکات پر توجہ: ہمیں ان باتوں پر اکٹھا ہونا چاہیے جو ہم سب میں مشترک ہیں (مثلاً ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب)۔
  • علماء کا کردار: علماءِ کرام کو چاہیے کہ وہ منبر و محراب سے فرقہ وارانہ نفرت کے بجائے محبت، امن اور اتحادِ امت کا درس دیں۔
  • تعلیم و تربیت: نئی نسل کو یہ سکھایا جائے کہ اسلام ایک وسیع دین ہے اور اس میں مختلف علمی آراء کی گنجائش موجود ہے۔

خلاصہ:

فرقہ واریت ایک بیماری ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اسلام کا اصل پیغام “واحدت” ہے، “تقسیم” نہیں۔ ہمیں مسلکوں کے خول سے نکل کر صرف “مسلمان” بن کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top